اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے بیرونِ ملک سیاسی دفتر کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق نے واضح کیا ہے کہ حماس کبھی بھی اپنا اسلحہ اسرائیل، امریکہ یا ان سے وابستہ کسی فریق کے حوالے نہیں کرے گی۔
روسی خبر رساں ادارے ریانووستی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ اگر اسلحے کی حوالگی کا کوئی معاملہ ہوا تو وہ صرف فلسطینی فریق کو کی جا سکتی ہے، خواہ وہ فلسطینی اتھارٹی ہو یا مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کی حکومت، لیکن اسرائیل یا امریکہ کو اسلحہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس سے قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے بھی کہا تھا کہ مزاحمتی تنظیموں کے اسلحے کا معاملہ فلسطینی عوام کے سیاسی اور قومی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی ایک گروہ کا نہیں بلکہ پورے فلسطینی عوام کا قومی مسئلہ ہے۔
حسام بدران نے مزید کہا کہ فلسطینی موقف میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس معاملے کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق دیکھا جانا چاہیے، جو زیرِ قبضہ اقوام کے حقِ مزاحمت کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کا اسلحہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے وابستہ ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے جاری قبضے کے خاتمے اور اپنے قومی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور اس تناظر میں مزاحمت کے اسلحے کو ایک بنیادی قومی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ